ہو سکتاہے کہ فیس بک اب ہمارے لیے نئی اور اتنی دلچسپ نہ رہی ہو جتنی یہ اپنے ابتدائی دنوں میں تھی۔ لیکن آج بھی ہم اس کی مقبولیت سے انکار نہیں کر سکتے۔ فیس بک کے ماہانہ 2 بلین فعال صارفین ہیں جب کہ اگر روزانہ کی بنیاد پر استعمال کے اعدادوشمار دیکھیں تو 1.37بلین افراد روزانہ کی بنیاد پر اس سوشل میڈیا ایپ کو استعمال کرتے ہیں۔

لہذا، یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ بہت سے لوگ اور کاروبار فیس بک سے پیسہ کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اتنے وسیع ممکنہ سامعین کے ساتھ، فیس بک سے پیسہ کمانا ایک اچھا خیال سمجھا جاتا ہے۔

یہ ظاہر ہے کہ فیس بک سے پیسہ کمانا آسان نہیں ہے۔ اتنی بڑی مارکیٹ ہونے کی وجہ سے خود کو دوسروں سے ممتاز دکھانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ خاص طور پر اب یہ اور بھی مشکل ہے جب کہ فیس بک کسی صارف کی نیوز فیڈ میں مخصوص پوسٹس ہی دکھاتا ہے۔ در حقیقت ممکن ہے کہ جو سٹیٹس آپ بخوشی اپنے بزنس کے فیس بک پیج پر اپلوڈ کرتے ہیں، وہ آپ کے فالوورز کی مجموعی تعداد کے 2 فیصد لوگوں تک ہی پہنچ رہا ہو۔

جب بھی کوئی صارف اپنا فیس بک کا نیوز فیڈ کھولتا ہے، تو فیس بک کا الگورتھم چار مراحل سے گزر کر فیصلہ کرتا ہے کہ اس صارف کو کس طرح کی پوسٹس دکھانی ہیں۔

urdu-stem-facebook-algorithm
  1. انوینٹری (Inventory): سب سے پہلے فیس بک اس صارف کے فرینڈز کی طرف سے شیئر کیے گیے حالیہ سٹیٹس اور ان کی طرف سے فالو کیے گیے پیجز کا جائزہ لیتا ہے۔
  2. سگنلز ( Signals): اس کے بعد صارف کے ماضی کے رویے کی بنیاد پر سگنلز کی پوری رینج پر ایک نظر ڈالتا ہے۔ ان میں، پوسٹ کس نے کی، مواد پر گزارا اوسط وقت، پوسٹ کی مصروفیت، ٹیگنگ اور تبصرے، پوسٹ کتنی معلوماتی ہے، اور بہت سے دوسرے اشارے شامل ہیں۔ پیسہ کمانے کے نقطہ نظر سے ایک اہم اشارہ یہ ہے کہ الگورتھم لوگوں کے سٹیٹس کو پیجز کی پوسٹس سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔
  3. پریڈکشنز (Predictions): سگنل یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے کہ صارف کسی خاص کہانی پر کیا ردعمل ظاہر کرے گا – کیا وہ اسے شیئر کریں گے، اس پر تبصرہ کریں گے، اسے پڑھیں گے، یا نظر انداز کریں گے؟
  4. سکور (Score): الگورتھم سگنلز اور اس کی پیشین گوئیوں کی بنیاد پر ہر پوسٹ کے لیے ایک متعلقہ سکور تیار کرتا ہے۔

جب Facebook کسی شخص کی فیڈ کو دکھانے کے لیے تیار کرتا ہے، تو یہ صرف سب سے زیادہ متعلقہ اسکور والی پوسٹس دکھاتا ہے۔

کیا آپ ایک بزنس مین ہیں؟ کوئی انفلوئنسر (Influencer) ہیں؟ یا ایک عام آدمی ہیں؟

فیس بک بنیادی طور پر ایک سوشل نیٹ ورک ہے؛ ایک آن لائن جگہ جہاں لوگ وقت گزار سکتے ہیں، مل سکتے ہیں اور مشترکہ دلچسپی کی چیزوں کو شیئر کر سکتے ہیں۔ فیس بک کی طرف سے کسی شخص کے ذاتی اکاؤنٹ سے اپلوڈ کیے گیے سٹیٹس کو کسی پیج سے کی گئی پوسٹ سے زیادہ اہمیت دیئے جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔

کمپنیوں کو ہمیشہ اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ لوگوں کے لیے فیس بک پر اپنی بات پھیلانا کمپنیوں کے مقابلے میں ہمیشہ آسان رہے گا۔ لیکن یہ طریقہ اتنا بھی واضح نہیں ہے۔

اگر کسی شخص کے پاس فیس بک کے دوستوں کی تعداد بہت کم ہے تو وہ اس بات کو بہت دور تک پھیلانے سے قاصر ہو گا۔ یہ صرف اسی صورت ممکن ہے کہ وہ اس پوسٹ کو اتنا زیادہ شیئر کریں کہ وہ وائرل ہو جائے۔ دوسری طرف، اگر کوئی شخص کافی تعداد میں حامیوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے اور پھر ان کے ساتھ مستقل بنیادوں پر مشغول ہو سکتا ہے، تو وہ دیکھے گا کہ ان کی پوسٹس بہت سے لوگوں کی فیڈز میں ظاہر ہوں گی۔

لہٰذا لوگ آپ کی بات کو سنتے ہیں یا نہیں، اس بات کو یقینی بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے فالوورز کو اس حد تک بڑھائیں کہ وہ آپ کو انفلوئنسر یعنی کوئی متاثر کن شخصیت سمجھنے لگیں۔ ایسی صورت میں فیس بک سے پیسے کمانا آسان ہو جاتا ہے۔ تاہم ، بزنس اکاؤنٹس کو بھی آپ مکمل طور پر نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اگر کاروبار اپنے اکاؤنٹس سے تسلسل کے ساتھ معیاری مواد شیئر کرتے رہیں اور اپنے اکاؤنٹ کو اچھے طریقے سے چلاتے رہیں تو جلد ہی فیس بک ان کی کوششوں کی قدر کرتے ہوئے ان کے relevance score میں اضافہ کر دے گی جس سے ان کی پوسٹ زیادہ لوگوں تک پہنچنا شروع ہو جائے گی۔ اور اس کے علاوہ فیس بک پر ایڈز بھی ہوتے ہیں، جو آپ کی پوسٹ کو اضافی reach دے سکتے ہیں۔

پہلے اپنے سامعین کی تعداد بڑھائیں

انفلوئنسرز کے فیس بک پر کامیاب ہونے کی واحد وجہ یہ ہےکہ وہ پہلے ہی اپنے فالوورز کی تعداد بڑھانے کے مرحلے سے کامیابی سے گزر چکے ہوتے ہیں۔ آپ کو فیس بک پر بہترین پوسٹس جیسے کہ دلچسپ لنکس، تصاویر اور اپ ڈیٹس کو شیئر کرکے اپنی مہارت کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ فیس بک پر حقیقی کامیابی کے لیے آپ کو اپنی دلچسپی کے مطابق ایسا شعبہ منتخب کرنا ہو گا جس میں آپ ایک ماہر کے طور پر جانے جا سکیں۔

اگرچہ کمپنیز اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کے لیے کسی انفلوئنسر کی مدد لے سکتی ہیں، لیکن وہ خود بھی کسی نہ کسی شکل میں فیس بک پر اپنی موجودگی کو یقینی بنانا چاہیں گی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی فیس بک پر موجودگی کو استعمال کر سکتے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ باور کروا سکیں کہ وہ اپنے متعلقہ شعبے کے ماہر ہیں

آپ کے فیس بک فین پیج کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آپ اپنے فالوورز کو ایک ایسا پلیٹ فارم دیں جہاں وہ آپ کے بارے میں جان سکیں (جو کہ آپ کا پیج ہی ہو گا)۔ اگر انہیں آپ کا کونٹینٹ پسند آئے گا تو وہ آپ کو پسند کریں گے۔ اس کا سیدھا مطلب ہو گا کہ وہ آپ پر اعتماد کرتے ہیں۔ اور آخر کار، وہ آپ کو پسندکرنے اور آپ پر اعتماد کی وجہ سے آپ سے پراڈکٹ خریدنے کو تیار ہو جائیں گے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے فالوورز کو اپنا دوست سمجھنا شروع کر دیں۔

آیئے اب بات کرتے ہیں ان ذرائع کی، جن کی مدد سے آپ فیس بک پر پیسہ کما سکتے ہیں۔

1۔ فیس بک مارکیٹ پلیس یا کسی خریدوفروخت والے گروپ کے ذریعے اپنی مصنوعات بیچنا

آپ کی لوکیشن کے مطابق، آپ کو فیس بک مارکیٹ پلیس پر فروخت کے لیے سازوسامان اور سروسز کی وسیع اقسام نظر آئیں گی۔ ان میں گھریلو ضرورت کے سامان سے لےکر گاڑیاں اور موٹر سائیکل وغیرہ تک شامل ہیں۔ فیس بک صارف جہاں سے اشیا خریدنا چاہتا ہے، وہ خاص اس علاقے کو منتخب کر سکتا ہے۔ مثال کے طور ر آپ اپنے گھر سے ایک خاص فاصلے تک فروخت کے لیے موجود اشیا دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ اس کو اپنی مرضی سے سیٹ کر سکتے ہیں۔ آپ اشیا کو ان کی قیمت کے مطابق بھی فلٹر کر سکتے ہیں۔

آپ فیس بک مارکیٹ پلیس پر اپنی اضافی اشیا بھی فروخت کے لیے لگا کر پیسے کما سکتے ہیں۔ اس صورت میں آپ کو لوگوں کے ساتھ اشیا کی قیمت کے حوالے سے بات کرنے کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے اس لیےاپنے ذہن میں رکھیں کہ آپ اپنی اشیا کو کس کم سے کم قیمت پر فروخت کرنا چاہتے ہیں۔

اسی طرح فیس بک پر اشیا کی خریدوفروخت کے لیے مختلف گروپس بھی بنے ہوتے ہیں۔ آپ اپنی اضافی اشیا کو بیچنے کے لیے ان گروپس میں جا کر پوسٹ بھی لگا سکتے ہیں۔ ان گروپس میں تقریبا ایک جیسے لوگ ہی ہوتے ہیں لہٰذا اشیا کی قیمتوں پر زیادہ بحث سے بچا جا سکتا ہے۔

2۔ اپنے فیس بک فین پیج سے بھی مصنوعات بیچی جا سکتی ہیں

اکثر کمپنیز یہ جانتی ہیں کہ ان کی پوسٹس کا اپنے فالوورز کے نیوز فیڈ میں نظر آنے کے لیے زیادہ relevance score کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ بالکل بھی آسان نہیں ہے۔ اس لیے اپنے فین پیج کا استعمال کرتے ہوئے فیس بک پر پیسہ کمانے کے لیے آپ کو ایسا مواد بنانا اور شیئر کرنا ہوگا جس کو لوگ مستقل بنیادوں پر پسند کرتے ہوں۔ کِم گارسٹ کے مطابق؛

"اگر آپ مستند مواد اپلوڈ کریں اور کبھی کبھار اپنی مصنوعات بیچیں، تو آپ فیس بک سے آسانی سے پیسہ کما سکتے ہیں۔”

اگر آپ انفلوئنسر مارکیٹنگ کا استعمال کرتے ہوئے کسی انفلوئنسر کی خدمات حاصل کرتے ہیں، تو یہ آپ کےلیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ مفید اور مستند مواد فراہم کر کے اپنے فالوورز کو آپ کے فین پیج تک لے کر آ سکتے ہیں۔ اپنی سیلز پوسٹ کو زیادہ لوگوں تک پھیلانے کےلیے اشتہاراتی پوسٹس کا بھی سہارہ لیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ نہ بھولیں کہ ایک آرگینک آڈیئنس (Organic Audience) بنانے کے لیے، آپ کی پوسٹس کا بڑا حصہ سیلز پر مبنی نہیں ہو سکتا۔ انہیں آپ کے ممکنہ سامعین کے لیے قیمتی ہونے کے ساتھ ساتھ تفریح پر مبنی بھی ہونا چاہیے۔

فیس بک ایڈورٹائزنگ کے ساتھ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ فیس بک کے زیادہ تر صارفین خریداری کے کس مرحلے پر ہیں۔ وہ کسی بھی چیز کو خریدنے کے مقصد کے ساتھ پلیٹ فارم کا استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ یہ گوگل پر اشتہارات کی طرح نہیں ہے، جہاں ممکنہ خریدار خریداری میں مدد کے لیے سرچ کرتے ہیں۔ لوگ فیس بک پر اپنے دوستوں کے ساتھ بات چیت کے لیے آئے ہیں، وہ یہ دیکھنے آئے ہیں کہ ان کے جاننے والے کیا کر رہے ہیں، اور مزاحیہ ویڈیوز دیکھنے آئے ہیں۔ وہ آپ کی مصنوعات خریدنے کے لیے نہیں آئے۔

اس لیے سیلز فنل (Sales Funnel) بنانا آپ کی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لیے آپ کو اپنی پوسٹ کو اتنا زیادہ پھیلانے کی ضرورت ہے جتنا کہ آپ پھیلا سکتے ہیں۔ اور اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ مختلف طرح کا معیاری مواد اپلوڈ کرتے رہیں۔ معیاری بلاگ پوسٹس، ویڈیوز، مضحکہ خیز کہانیوں، متنازعہ بیانات، انفوگرافکس، اور آپ کے خیال میں لوگوں کو آپ کی طرف راغب کرنے والی چیزوں کے لنکس کا مرکب فراہم کریں۔ اور یہ سارا مواد کسی نہ کسی طرح سے آپ کی مصنوعات سے متعلقہ ہونا چاہیے۔ یا کم از کم ان لوگوں کی دلچسپی سے متعلق ہونا چاہیے جو آپ کی مصنوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ایک دفعہ جب آپ نے اچھی تعداد میں اپنے فالوورز بنا لیے (چاہے خود سے یا پھر کسی انفلوئنسر کی مدد سے)، پھر آپ کو ان کے درمیان اپنے مواد کی تشہیر کرنا شروع کر دینی چاہیے۔ اس بات پر خاص توجہ دیں کہ آپ کی کس قسم کی پوسٹس پر لوگ زیادہ وقت گزار رہیں ہیں۔ پھر اس کے مطابق مستقبل میں اپنی پوسٹس بنائیں۔

اس کے علاوہ اپنے مواد کی تشہیر ان اشتہارات کے ذریعے سے بھی کریں جو ایک جیسی آڈیئنس کو ٹارگٹ کرنے کے لیے بنائے جائیں۔ اگرچہ ان لوگوں نے شاید آپ کے بارے میں پہلے کبھی نہیں سنا ہوگا، لیکن انہوں نے اپنی ماضی کی سرگرمیوں سے یہ ظاہر کیا ہے کہ ان کی دلچسپی ان لوگوں سے ملتی جلتی ہے جو آپ کو فالو کرتے ہیں۔ اس لیے ان سامعین کواپنےمواد سے متوجہ کرنا زیادہ پیچیدہ نہیں ہونا چاہیے۔

3. اپنی مصنوعات کی کیٹگری میں فیس بک گروپ چلانا

اگرچہ صرف سیلز بنانے کے لیے فیس بک گروپ چلانے کی اتنی خاص اہمیت نہیں ہے، لیکن یہ ایک مفید طریقہ ہو سکتا ہے جس آپ لوگوں کو اپنی مصنوعات کے بارے میں بتا سکتےہیں۔ اگر آپ معلوماتی مصنوعات فروخت کرتے ہیں تو فیس بک گروپس خاص طور پر مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ آپ ایک گروپ قائم کر سکتے ہیں، ممبران کو ایک دوسرے کی مدد کرنے اور خیالات کا اشتراک کرنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ ایک بار پھر آپ کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ آپ گروپ کے اراکین کو مفید مواد پیش کرتے ہیں، اور ہر بار آپ ان کے مسائل کے حل کے طور پر اپنی پروڈکٹ تجویز کر سکتے ہیں۔ فیس بک گروپس دیگر سرگرمیوں کے لیے بھی اچھی طرح سے کام کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کا پروڈکٹ کورس یا ای بُک ہے، تو آپ اپنی کلاس کے ممبران یا ان لوگوں کے لیے فیس بک گروپ چلا سکتے ہیں جنہوں نے آپ کی ای بک خریدی ہے۔ اگر آپ بامعاوضہ کوچنگ (Paid Coaching) فراہم کرتے ہیں، تو آپ فیس بک گروپ کو ایک ایسی جگہ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں جہاں آپ کے کلائنٹ اکٹھے ہو سکتے ہیں۔

4. مجوزہ فیس بک سیلز فنل (Sales Funnel)

SEO کے ماہر نیل پٹیل نے فیس بک سیلز فنل بنانے کے لیے ایک تفصیلی مرحلہ وار گائیڈ لکھی ہے جس میں وہ بہت سے دوسرے مبصرین کی طرح بتدریج اپنی فیس بک سیلز کو بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ نیل کے مطابق فیس بک سے پیسے کمانے کے لیے، سیلز فنل کوبہتر بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کےسات مراحل ہیں:

urdu-stem-seven-steps-to-improve-facebook-sales
  1. اپنے سرگرم سامعین، یعنی وہ لوگ جنہوں نے پہلے سے آپ کی پراڈکٹ میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، کے لیے مختلف طرح کا معیاری مواد بنائیں۔
  2. اپنے سرگرم سامعین کی طرح کی مزید آڈیئنس تلاش کریں، جسے Lookalike Audience کہا جا تاہے۔
  3. اسکے بعد اس Lookalike Audience کے لیے اعلٰی معیار کا مواد اپلوڈ کریں۔
  4. ان میں سے کچھ Lookalike Audience جو دیکھیں گے انہیں پسند آ سکتا ہے اور ہو سکتا ہے وہ آپ کی پراڈکٹ خریدنے کا فیصلہ بھی کر لیں۔
  5. جنہوں نے ابھی تک کوئی پراڈکٹ نہیں خٰریدی ان کے لیے Facebook Pixel کا استعمال کریں اور ان تک دوبارہ اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کریں۔
  6. جنہوں نے ابھی تک پراڈکٹ نہیں خریدی ان تک اپنی پراڈکٹ کی مارکیٹنگ کرتے رہیں۔
  7. پراڈکٹ خریدنے کا فیصلہ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کریں۔

5۔ فیس بک پر انفلوئنسر (Influencer) مارکیٹنگ

بہت سے برانڈز فیس بک سے پیسہ کمانے کے لیے مطلوبہ تعداد میں فالوورز بڑھانے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ اس صورت حال میں، کمپنیز کے لیے Influencers سے رجوع کرنا عام بات ہے۔ انفلوئنسرز نے فیس بک پر اپنے فالوورز بڑھنے کےلیے بہت محنت کی ہوتی ہے۔ کوئی بھی انسان جو آج فیس بک پر ایک انفلوئنسر ہے، شروع میں وہ ایسے ہی تھا جسے کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔ تاہم، انہوں نے اپنے آپکے لیے ایک مقام پر پہنچنے کے لیے وقت صرف کیا، اور وہ اتھارٹی، اعتماد اور اپنے فالوورز کی تعداد بڑھانے کے لیے ضروری اقدامات سے گزر چکے ہیں،

وہ جانتے ہیں کہ وہ برانڈز کے ساتھ شراکت میں شامل ہو سکتے ہیں، برانڈز کے پیغامات کو ان طریقوں سے پھیلا سکتے ہیں جو بصورت دیگر برانڈز کے لیے ناممکن ہو گا۔ سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ برانڈ انفلوئنسر کے فالوورز کے لیے موزوں بھی ہو۔ انفلوئنسر اپنے مداحوں کو سپانسر شدہ مواد فراہم کر سکتے ہیں۔ وہ Affiliated لنکس کا اشتراک کرکے بھی براہ راست کام کر سکتے ہیں۔

کسی بھی کاروبار کی تشہیر کا بہترین حل یہ ہے کہ اس کا فیس بک پیج بنایا جائے، لیکن اس عمل کو شروع کرنے کے لیے انفلوئنسرز کے ساتھ کام کریں، اور اپنی پوسٹس کو وہ Reach دیں جو زیادہ تر برانڈز اکیلے حاصل نہیں کر سکتے۔

10 thoughts on “فیس بک سے پیسے کمانے کے 5 حیران کن طریقے

  1. Ashifs says:

    جب بھی کوئی صارف اپنا فیس بک کا نیوز فیڈ کھولتا ہے، تو فیس بک کا الگورتھم چار پراحل سے گزر کر فیصلہ کرتا ہے کہ اس صارف کو کس طرح کی پوسٹس دکھانی .
    In lines ki samj ni ai exaplane it and
    الگورتھم چار مراحل سے گزرتا ہے
    Correct it.

    • admin says:

      نشاندہی کرنے کا شکریہ۔ اس کو ٹھیک کر دیا جائے گا۔ اور نیوز فیڈ میں کسی کو پوسٹس کس طرح کی دکھانی ہیں اس کے لیے فیس بک کا ایک طریقہ کار ہے۔ جس کو فیس بک کو الگورتھ کہتے ہیں۔ آسان لفظوں میں یہ الگورتھم ہر صارف کے لیے الگ سے پتہ لگائے گا کہ اس کی دلچسپی کس طرح کے مواد میں ہے۔ اس کے لیے وہ اس صارف کے دوستوں کی شیئر کی گئی پوسٹس کو بھی دیکھے گا۔ یعنی الگورتھم کے مطابق اگر آپ کے دوست کوئی مواد شیئر کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے آپ کی دوستی اسی وجہ سے ہے کہ آپ ایک طرح کا مواد پسند کرتے ہیں۔ تو فیس بک الگورتھم اس بات سے آپ کی دلچسپی کا مواد بھی جمع کر کے آپ کی نیوز فیڈ میں دکھاتا ہے۔ یعنی اگر مجھے سپورٹس کے متعلق پوسٹس دیکھنا پسند ہے تو عین ممکن ہے میرے ایسے دوست ضرور ہوں گے جو سپورٹس کی خبریں اور پوسٹس دیکھنا پسند کرتے ہوں۔ لہٰذا فیس بک الگورتھم مجھے بھی اسی طرح کی پوسٹس دکھائے گا۔

    • admin says:

      آسان لفظوں میں اگر انفلوئنسرز کو بیان کیا جائے تو یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو سوشل میڈیا پر بہت مشہور ہوتے ہیں۔ جن لوگوں کے بہت زیادہ فالوورز ہوتے ہیں ان کو انفلوئنسر کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی ٹک ٹاک پر بہت مشہور ہے، لوگ اس کی ویڈیوز بہت شوق سے دیکھتے ہیں اور اس کی ویڈیوز اپلوڈ ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ تو وہ انسان انفلوئنسر کہلائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses cookies to offer you a better browsing experience. By browsing this website, you agree to our use of cookies.