آج کے دور میں مصنوعی ذہانت انسانوں کی زندگی کے ہر پہلو پر اپنا اثر دکھا رہی ہے۔ اس نے انسانوں کے لیےبہت زیادہ فائدے کرنے کے ساتھ بہت سارے خدشات بھی چھوڑے ہیں۔ کچھ نقصان بھی کیے ہیں۔ مصنوعی ذہانت شروع سے ہی محققین کی ایک بڑی تعداد کے لیے دلچسپی سے بھرا ہوا ایک موضوع رہی ہے۔ عام انسانوں جیسے کے سکول اور کالجز کے طلباء بھی اس کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ اگر آپ بھی مصنوعی ذہانت کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو آپ بالکل ٹھیک جگہ پر ہیں۔

آج کے اس آرٹیکل میں ہم بات کرنے والے ہیں کے مصنوعی ذہانت کیا ہوتی ہے، اس کی مختصر تاریخ کیا ہے، اور پھر آپ کو بتائیں گے اس کے بارے میں 10 حیران کر دینے والے حقائق۔ سو یہ سب جاننے کے لیے آپ بھی اس آرٹیکل پر میرے ساتھ آگے بڑھتے رہیے!

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کیا ہے؟

ذہن نشین کر لیں کہ اس آرٹیکل میں آئندہ میں جہاں بھی AI لکھوں تو اس کا مطلب Artificial Intelligence یعنی مصنوعی ذہانت ہو گا۔

AI مطالعہ کا ایک ایسا شعبہ ہے جو کمپیوٹر سسٹمز کو ایسے کاموں کو انجام دینے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے جو انسان کر سکتے ہیں۔ AI پچھلے کچھ سالوں میں ایک ایسا لفظ بن گیا ہے، جسے کمپنیاں اپنے سسٹمز، پروڈکٹس اور سروسز کی وضاحت کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ لیکن AI اصل میں کیا ہے؟ یہ عام طور پر مطالعہ کے شعبے سے منسلک ہے جو سافٹ ویئر بنانے پر توجہ مرکوز کرتا ہے اوریہ وہ  کام سرانجام دے سکتا ہے جو انسان کر سکتے ہیں۔ یہ سیکھ سکتا ہے، سوچ سکتا ہے اور نئے حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکتا ہے۔

AI کی مختصر تاریخ

مصنوعی ذہانت (AI) کی اصطلاح John McCarthy نے 1956 میں کی تھی۔ ابتدائی طور پر، AI تحقیق میں مشرقی یورپی سائبر فزیالوجسٹ شامل تھے جنہوں نے کمپیوٹر پروگرامنگ کے نقطہ نظر سے AI پر تحقیق کی اور ذہانت کی نقل کرنے کے لیے مشینوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔

60 اور 70 کی دہائیوں میں، AI کی تحقیق کو ایک دھچکا لگا کیونکہ زیادہ تر ماہرین کا خیال تھا کہ یہ بہت مشکل تھا کیونکہ وہ پوری طرح سے نہیں سمجھتے تھے کہ مشین کی صلاحیتوں کو کیسے اس قابل بنایا جائے کہ وہ انسانوں کی طرح سوچ اور سمجھ کر فیصلہ کرنے اور مختلف شعبوں میں کام کرسکے اور اس سے انسانیت کو فائدہ پہنچ سکے-

1980 کی دہائی میں، AI کی ترقی کمپیوٹنگ اور روبوٹکس میں ترقی کی وجہ سے شروع ہوئی۔ سخت حفاظتی پابندیوں کے تحت، دفاعی صنعت نے اس دوران ذہین ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی میں بہت سی کامیابیاں حاصل کیں۔ یہی وہ وقت بھی ہے جب ماہر نظام متعارف کرائے گئے تھے، جو ایسے پروگرام ہوتے ہیں جو ایک مخصوص ڈومین میں حاصل کردہ علم کی بنیاد پر مخصوص سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔

1990 کی دہائی میں طبی تشخیص، مینوفیکچرنگ، ٹیلی کمیونیکیشن، اور اسٹاک مارکیٹوں کے تجزیہ سمیت کئی صنعتوں کے ذریعے AI  میں نمایاں ترقی ہوئی۔

کیا AI آئندہ چند سالوں میں بنی نوع انسان پر قبضہ کر لے گی؟

مصنوعی ذہانت آج دنیا میں تیزی سے طاقتور قوت بن چکی ہے۔ مشین لرننگ سے لے کر نیورل نیٹ ورکس تک، ایسا لگتا ہے کہ ہم صرف AI کے ابھی مکمل صلاحیت کو سمجھنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اگرچہ AI ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے (ذہانت کے لحاظ سے)، اس نے پچھلے کچھ سالوں میں بہت ترقی کی ہے اور اس بات کا حقیقی امکان ہے کہ یہ انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

درحقیقت کچھ ماہرین ایسے ہیں جن کا ماننا ہے کہ AI کے اقتدار سنبھالنے اور انسانی ذہانت پرغالب انے میں  صرف کچھ ہی وقت باقی ہے اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ AI انسانیت پر قبضہ کر لے گا اور انسانوں کو اپنا غلام بنا لے گا جب کہ دوسرے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایک دوست بن جائے گا اور انسانیت کو بہتر دنیا میں کامیاب ہونے میں مدد کرے گا۔

AI ممکنہ طور پر کب تک انسانیت پر قبضہ کر لے گی؟

اس سوال کا کوئی ٹھوس جواب نہیں ہے ہے۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ اگلے چند سالوں میں AI انسانوں پر قبضہ کرلے گا. جبکہ دوسروں کا خیال ہے کہ انسانیت پر حقیقت میں قبضہ کرنے کے لیے AI کوسینکڑوں سال لگ سکتے ہیں۔ جب کہ ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک کا ماننا ہے کہ AI اگلے پانچ سالوں میں انسانوں کو پیچھے چھوڑ دے گی۔ پوری دنیا کے 1634  سرکردہ مصنوعی ذہانت کے محققین کا کہنا ہے کہ 45 سالوں میں اےای کا تمام انسانوں کی ذہانت کو شکست دینے کا 50 فیصدچانس ہے۔

AI میں دس دلچسپ حقائق جو آپ کو جاننے کی ضرورت ہے

اب بات کرتے ہیں AI کے بارے میں چند دلچسپ حقائق کی جن کو جاننے کی آپ کو ضرورت ہے:

  1. 2025میں دنیا بھر میں AI مارکیٹ کی مالیت تقریبا بابا 60 بلین ڈالر ہونے کی توقع ظاہر کی گئی۔
  2. 2030ء تک AI عالمی جی ڈی پی کو 15.7 ٹریلین ڈالر تک بڑھا دے گا۔  
  3. AI کے Voice Assistant اب 97 فیصد موبائل صارفین استعمال کرتے ہیں۔ چالیس فیصد افراد دن میں کم از کم ایک بار voice search کی خصوصیت کا استعمال کرتے ہیں۔  
  4. 26فیصد CEOs نے کہا کے AI استعمال کرنے کا ان کا حقیقی مقصد کمپنی کے اندرونی کاموں کو بہتر اور بروقت بنانا ہے۔
  5. 2030ء تک ذہین روبوٹس دنیا بھر میں 30 فیصد افرادی قوت کی جگہ لے سکتے ہیں۔
  6. AI کو اپنانے والی کمپنیز کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سیلز کی پیشن گوئی کرنے اور ای میل مارکیٹنگ کے لیے 87٪ AI کا استعمال کرتے ہیں، یا کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
  7. ڈیپ بلیو، پہلا مصنوعی ذہانت والا روبوٹ، 1996 میں بنایا گیا تھا۔ 10 فروری 1996 کو، یہ شطرنج کھیلنے والا کمپیوٹر تھا جس نے ورلڈ چیمپئن کے خلاف اپنا پہلا گیم جیتا تھا۔
  8. گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے کہاں تھا کہ مصنوعی ذہانت انسانوں پر بجلی سے زیادہ اثر انداز ہوگی۔
  9. کچھ اندازوں کے مطابق، مصنوعی ذہانت 45 فیصد تجارتی سرگرمیوں کو خودکار بنا سکتی ہے۔
  10. AI کا سرجری میں استعمال نہ صرف مریضوں کی تشخیص کے لیے کیا جاتا ہے، بلکہ فیصلے کرنے اور خودکار (روبوٹ کی مدد سے) طریقہ کار انجام دینے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

گفتگو کا خلاصہ

اگرچہ مصنوعی ذہانت کے قابل بحث فوائد اور نقصانات دونوں ہیں، لیکن عالمی صنعت پر اس کے اثرات ناقابل تردید ہیں۔ یہ دنیا میں مختلف کاروباروں میں بہتری لانے کے لیے ہر گزرتے دن کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ نئے دور کی ٹیکنالوجی مکمل طور پر AI پر انحصار کرتی ہے۔ یہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی مستقبل میں کاروبار کو آسان بنانے کے لیے بہت سی سہولیات کو متعارف کروائے گی جس سے چھوٹی بڑی صنعتیں فائدہ اٹھا سکیں گی۔ AI کس مستقبل دلچسپ بھی ہو سکتا ہے اور غیر یقینی بھی۔ لیکن فی الحال ہمیں یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ یہ انسانوں کے قابو میں رہے ورنہ یہ تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ ا ن خطرات کے باوجود بھی، اس کا مستقبل بظاہر روشن ہی نظر آتا ہے۔

22 thoughts on “مصنوعی ذہانت کے بارے میں 10 حیران کن حقائق

    • admin says:

      سٹاک مارکیٹ میں روزانہ مختلف کمپنیوں کے کروڑوں اربوں کے شیئرز کی خریدوفروخت ہوتی ہے۔ AI سابقہ ڈیٹا کا ریکارڈ دیکھتے ہوئے کاروباری حضرات کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ کونسا شیئر خریدنا ان کے حق میں منافع بخش ہو گا۔ کس کاروبار میں انویسٹ کرنا ان کے لیے فائدہ مند رہے گا۔ اسی طرح دیگر کاروباری معاملات میں بھی AI ممکنہ نقصان سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

    • admin says:

      مشین لرننگ کا سادہ مطلب کمپیوٹر کو کسی پروگرامنگ لینگوئج میں کوڈ کر کے سکھانا۔ ہم کوڈ کی مدد سے کمپیوٹر کو مختلف ہدایات دیتے ہیں جن کو وہ سیکھ کر مستقبل میں اسی طرح عمل کرتا ہے۔
      نیورل نیٹ ورک ایک کمپیوٹیشنل لرننگ سسٹم ہے جو ایک شکل کے ڈیٹا ان پٹ کو مطلوبہ آؤٹ پٹ میں، عام طور پر دوسری شکل میں سمجھنے اور ترجمہ کرنے کے لیے فنکشنز کے نیٹ ورک کا استعمال کرتا ہے۔
      ان آرٹیکلز کا اصل مقصد آپ کو ٹیکنالوجی سے متعلق نئی اصطلاحات سے متعارف کروانا ہوتا ہے تاکہ ان کے بارے میں مزید سرچ کر کے سیکھا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses cookies to offer you a better browsing experience. By browsing this website, you agree to our use of cookies.